غزل غم کی اک ہم سنانے لگے ہیں | Ghazal Gam ki ik hm sunany lgy hain
غزل غم کی اک ہم سنانے لگے ہیں غزل غم کی اک ہم سنانے لگے ہیں بھری بزم کا دل دکھانے لگے ہیں مرے سارے اپنے حریفوں سے مل کر میرا ضبط پھر آزمانے لگے ہیں محبت کی باتیں جو کرتے تھے مجھ سے مجھے چھوڑ کر اب وہ جانے لگے ہیں تری آس میں ہی چلا جا رہا ہوں وگرنہ یہ رستے تھکانے لگے ہیں تمہیں دل سے ہم نے نکالا نہیں پر سبھی خط تمہارے جلانے لگے ہیں پرانے تھے جو غم انہیں بھول کر اب نئے خواب پھر ہم سجانے لگے ہیں یہ دنیا نہیں ہے جگہ دل لگی کی سو دل ہم خدا سے لگانے لگے ہیں حدید فاطمہ